ماہنامہ گونج نظام آباد : ”ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی فن اور شخصیت نمبر“ - My city Nizamabad | Info on History Culture & Heritage | Urdu Portal | MyNizamabad.com

29.7.20

ماہنامہ گونج نظام آباد : ”ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی فن اور شخصیت نمبر“


ماہنامہ گونج نظام آباد:”ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی فن اور شخصیت نمبر“ 

  اردو زبان و ادب کے فروغ میں ادبی رسائل کا بھی اہم رول رہا ہے۔ جنوبی ہندوستان سے اپنی مسلسل اشاعت کے 40سال تکمیل کرنے والا ایک معروف رسالہ گونج ہے جو ادارہ گونج کے زیر اہتمام کہنہ مشق صحافی اور ممتاز شاعر جناب جمیل نظام آبادی کی ادارت میں پابندی سے شائع ہورہا ہے۔ادارہ گونج کا قیام 1973ء میں عمل میں آیااور اس کے تحت ایک رسالہ ”گونج“کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا ہی سے اس رسالہ کے مدیر جمیل نظام آبادی رہے ہیں جو ادارہ گونج کے کنو ینربھی ہیں، وہ اردو کے ایک خاموش اور سچے خدمت گذار کے طور پرجانے جاتے ہیں،یہ ادبی رسالہ پابندی سے ہر ماہ شائع ہوتاآرہاہے جس کی مقبولیت نہ صرف ریاست تلنگانہ وہ آندھراپردیش بلکہ قومی سطح پر بھی ہے۔ گونج کی ابتدائی خصوصی اشاعتوں میں نعت نمبر، نظم نمبر، افسانہ نمبر،یادگار شعر نمبر،پیش لفظ نمبر،ٹیلی فون ڈائرکٹری نمبر کے علاوہ فن اور شخصیت میں قاضی مشتاق احمد،انور حیات، سلیم عابدی، رحیم انور، گوہر کریم نگری کے علاوہ کئی نمبر شائع ہوچکے ہیں۔ہر سال پابندی سے میلاد النبی ﷺ نمبر نکالا جاتا ہے جو اس کی خصوصی شناخت بن گیا ہے،حالیہ عرصہ میں ادارہ گونج کی جانب سے ادبی شخصیات کے فن اورشخصیت پر خصوصی اشاعتوں کا سلسلہ جاری ہے۔جن میں ڈاکٹر عبدالقدیر، صابر کاغذ نگری،ڈاکٹر زبیر،ڈاکٹرمسعود جعفری،اقبال شیدائی اور ڈاکٹر ناظم علی پرخصوصی گوشہ شائع کئے گئے ہیں۔
 ڈسمبر 2014ء کا شمارہ ”ڈاکٹر محمداسلم فاروقی فن اور شخصیت نمبر“کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔
 اور پھیلوں گا  جو لوٹاؤ گے آواز میری
اتنا گونجوں گا صدیوں کو سنائی دوں گا 
 جس طرح جمیل نظام آبادی ادبی دنیا میں نظام آباد کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں اسی طرح ڈاکٹر اسلم فاروقی بھی نظام آباد کے متوطن ہیں اور وہ بحیثیت ادیب،انشاء پرداز،صحافی،محقق و نقاد اور ماہر تعلیم کے طور پر اردو کے حلقوں میں مقبول ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا خاص وصف یہ ہے کہ وہ دینی مدرسے کے فارغ ہیں لیکن دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہوکر یونیورسٹی آف حیدرآباد سے اردو میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد ڈگری لیکچرر و صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس طرح ان کی شخصیت دین و دنیا کو ساتھ لے کر چلنے والے انسانوں میں ہوتی ہے۔وہ عمر کے حساب سے ابھی نوجوان ہیں لیکن اپنی صلاحیتوں سے وہ ایک تجربہ کار بزرگ کا درجہ رکھتے ہیں یہی نہیں وہ عصر حاضر کے ادباَ اور اساتذہ میں عصری حسیت سے بھی اولیت کا درجہ رکھتے ہیں اس لئے کہ وہ انفارمیشن ٹکنالوجی سے جڑے ہوئے ہیں اور اردو زبان و ادب کو انٹرنٹ سے جوڑنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جس کی ترجمانی ان کی خدمات سے ظاہر ہے۔ گونج کے اس خصوصی شمارے کا آغاز مدیر گونج جمیل نظام آبادی کے اداریہ سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور لکھا ہے”ڈاکٹر اسلم فاروقی اپنی موروثی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اردو ادب میں نمایاں کام انجام دے رہے ہیں جو قابل غور ہے،ان کی ان ہی خدمات کو سراہنے اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی قدر دانی کے سلسلہ میں گونج اپنا یہ شمارہ پیش کررہا ہے۔“گونج میں حسب روایات اداریہ کے بعد روشن آیات،نعت پاک،نعت شریف شامل ہیں۔اس شمارے کی خصوصیت کے اعتبار سے ڈاکٹر اسلم فاروقی کے والد محترم محمد ایوب فاروقی صابرؔ کی دو غزلیں شامل کی گئی ہیں۔تعارف کے طور پر ڈاکٹر محمداسلم فاروقی سے متعلق تفصیلات ”ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا علمی سفر ماہ وسال کے آئنے میں“پیش کی گئی ہے جس کے مطالعہ سے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کی شخصیت عیاں ہوجاتی ہیں۔
 اس گوشہ میں پہلا مضمون پروفیسر محمد انوار الدین کا”میرے مثالی شاگرد ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی“ کے عنوان سے شامل ہے۔جس میں انہوں نے اپنے عزیز شاگرد کی شخصیت کے اہم پہلووں پر روشنی ڈالی اورڈاکٹراسلم فاروقی کو اپنا ایک مثالی شاگرد قرار دیا۔دوسرا مضمون ڈاکٹر ناظم علی بعنوان ”’ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی محقق،نقاداور ادیب“ شامل ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر اسلم فاروقی کی تصانیف”حبیب حیدرآبادی فن اور شخصیت،عزیز احمد کی ناول نگاری کا تنقید جائزہ،قوس قزح،مضامین نو،سائنس نامہ کا سرسر ی جائزہ پیش کیا ہے۔راقم الحروف کا بھی مضمون ”اردو ٹکنالوجی سے جوڑنے میں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کی خدمات“شامل ہے جس میں اسلم فارقی کی انٹرنیٹ خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔محمد محبوب کا مضمون ”اجالوں کے نقیب ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی“ جامع انداز میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ایک اور مضمون عقیل احمد خان کا”فاروقی خاندان کے چشم و چراغ ڈاکٹر اسلم فاروقی“کے عنوان سے شامل ہے۔
 اس شمارہ کے دوسرے حصہ میں ڈا کٹر اسلم فاروقی کے مضامین ”تلنگانہ میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے عملی اقدامات“،مرے حصہ میں ماں آئی“،”شادی نامہ(مزاحیہ مضمون)“،”اردو روزگار کے مواقع“،شامل ہیں۔گونج کے اس خصوصی شمارے کے آخر میں ”سائنس نامہ(اردو میں سائنسی مضامین کامجموعہ)“ پرمدیر محترم کا تبصرہ بھی شامل ہے۔بہر حال اس خصوصی شمارے میں ایک طرف ڈاکٹر اسلم فاروقی کی شخصیت کا مکمل احاط نظر آتا ہیں وہیں ان کی اردو کی تئیں خدمات کا بھر پور جائزہ مضمون نگاروں نے پیش کیا ہے ساتھ ڈاکٹر محمداسلم فاروقی کی بہترین تخلیقا ت کو بھی اس شمارے کی زینت بناتے ہوئے مدیر محترم جناب جمیل نظام آبادی نے اس خصوصی نمبر کی اشاعت کو حق بجانب اور فروغ اردو کی طرف ایک قدم کے طور پر پیش کیا ہے۔اس خاص نمبر کی اشاعت سے اندازہ ہوتا ہے کہ گونج نے اردو کی پرانی نسل کے ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا کام بھی کیا ہے جس کے لئے مدیر رسالہ قابل مبارک باد ہیں۔ ساتھ ہی ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی سے متعلق اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اسی طرح اردو کی خدمات کا کام انجام دتے رہیں تو اردو کی نئی نسل کو اپنی زبان کے مستقبل کے بارے میں مایوسی نہیں ہوگی بلکہ نئے حوصلوں اور عزائم کے ساتھ کاروان اردو کا سفر جاری رہے گا۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں 40 صفحات پر مشتمل اس شمارے میں بہت ہی اختصار سے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم فاروقی کی خدمات کو سمیٹا گیا ہے جو 400صفحات کے مقالہ کی متقاضی ہیں۔
ماہنامہ گونج کے اس شمارے کی قیمت 20روپیئے رکھی گئی ہے اور سالانہ 100روپئئے ادا کرتے ہوئے 9-19-64/Aنزد نیو واٹر ٹینک مالا پلی نظام آباد50001 سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 

ایڈیٹر:جمیلؔ نظام آبادی                    فون نمبر:9492207865


****

 مبصر : ڈاکٹر محمد عبدالعزیز سہیل


No comments:

Post a Comment