ممتاز شاعر جلال اکبرؔ: حوصلہ دیتے ہیں سب کہہ کے قدآور مجھ کو - My city Nizamabad | Info on History Culture & Heritage | Urdu Portal | MyNizamabad.com

20.2.20

ممتاز شاعر جلال اکبرؔ: حوصلہ دیتے ہیں سب کہہ کے قدآور مجھ کو



ممتاز شاعر جلال اکبرؔ: حوصلہ دیتے ہیں سب کہہ کے قدآور مجھ کو



نام: محمد جلال الدین اکبرؔ۔ 
 تخلص: اکبرؔ۔ 
 والدِمحترم کا نام: شیخ حسین صاحب مرحوم۔ 
 سنِ پیدائش: 1959 
 مقامِ پیدائش و سکونت: نظام آباد۔ 
تعلیمی اہلیت: بی، اے۔ (اردو)
 پیشہ: تجارت 
باضابطہ آغاز شاعری: سن 2006 ء

 اساتذۂ سخن: 

 1. تنویرؔ واحدی 
2. عاجزؔ ہنگن گھاٹی 
3. سردار سلیم

 پسندیدہ اصنافِ‌ سخن:

 حمد، نعت، منقبت، غزل، نظم 
 مجموعہ کلام: "عزائم" (زیرِ طباعت) 
علمی، ادبی و فلاحی اداروں سے وابستگی:
 1. صدر، انجمن شعرائے اردو، نظام آباد۔ 
2. سابقہ ریاستی نائب صدر ادارہ ادب اسلامی، تلنگانہ، آندھراپردیش، اڑیسہ۔ 
3. رکن حج سوسائٹی ضلع نظام آباد۔

 اعزازات: 

 1. داتری کل ہند ادبی و ثقافتی ادارہ کی جانب سے ادبی خدمات پر اعزازی سند دی گئی۔ 
2. حکومت تلنگانہ کی جانب سے اردو شاعری کے لیے اعتراف خدمات کی سند دی گئی۔ 
3. بزم تنویر ادب، دیگلور کے طرحی نعتیہ مشاعرے میں گرہ کو انعام اول دیا گیا۔


شہر نظام آباد کے نمائندہ شاعر جلال اکبرؔ شہرت کی رنگینیوں سے  دور کہیں خاموش اور تنہا وادیوں میں بے نیازی کی مسند پر بیٹھ کر اپنے شعری جوہر نکھارنے میں یقین رکھتےہیں، آپ نے اپنے منفرد لہجے سے ادبی دنیا میں اپنی ایک مخصوص شناخت بنائی ہے۔ان کی شاعری خیالوں اور خوابوں کی دنیا  کی سیرنہیں کرواتی بلکہ سماج کی حقیقت کی ترجمانی کرتی ہے۔
     جلال اکبرؔ صاحب کے والد اردو ادب کے دلدادہ تھے اور معیاری شاعری کی بے حد قدر کرتے تھے، شاعری کا شوق جلال اکبرؔ صاحب کو ان کے والد صاحب سے ورثے میں ملا۔ اس طرح بچپن ہی میں آپ کا شاعری کی طرف میلان ہونے لگا اور رفتہ رفتہ یہ شوق بڑھتا گیا لیکن اکبرؔ صاحب کم عمری میں بڑی بڑی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے مصروف ہو گئے اور شاعری کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دے سکے۔ جلال اکبرؔ صاحب نے اپنے شعر گوئی کے ذوق کو پروان چڑھانےکے لیے سن 2006ء میں باضابطہ طور پر اپنے شعری سفر کا آغاز کرکے یکے بعد دیگرے تین اساتذہ سے مستفید ہوتے ہوئے پورے آب و تاب کے ساتھ اپنی شعری سفر کو رواں دواں رکھا اور بالآخر اپنے شعری مجموعہ  کو "عزائم" کی شکل میں جمع کیا۔(جس کی ان شاء اللہ جلد ہی رسم اجراء ہونے والی ہے)۔
     جلال اکبرؔ صاحب یوں تو بنیادی طور پر نعت اور غزل کے شاعر ہیں لیکن آپ نے ان کے علاوہ حمد اور منقبت جیسی اصناف سخن پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ آپ اپنی نعتوں میں رسول اللہ ﷺ کی شان و عظمت بڑے والہانہ انداز میں بیان کرتے ہیں، آپ کے نعتیہ کلام کو عوامی مقبولیت حاصل ہے، نعت خواں حضرات نعتیہ محفلوں میں آپ کی نعتیں پڑھتے ہیں، یہ سب آپ کے عشقِ رسولﷺ کا ثبوت ہے۔
     جلال اکبرؔ صاحب کا سیاست سے کافی گہرا تعلق ہے، چونکہ سیاستدان عوام کے ربط میں رہتے ہوئے ان کے حالات کو بہت قریب سے دیکھتا ہے اس لیے معاشرے کی اچھائیاں اور برائیاں ایک سیاستدان بخوبی سمجھتا ہے، سیاسی زندگی کا اثر اکبرؔ صاحب کی غزلوں میں نمایاں نظر آتا ہے آپ نے بڑے کمال کے ساتھ بحیثیت شاعر قوم و ملت کے حالات کی بہترین عکاسی کی اور سماج کے ان تمام پوشیدہ عیوب کو ظاہر کیا جن سے ایک عام آدمی نا آشنا رہتا ہے، شاعری کے ذریعے آپ ان تمام خطرات سے قوم کو خبردار کرتے ہیں جو ان کے سروں پر منڈلا رہے ہیں، تاکہ ان باتوں پر غور کرکے ان کا حل نکالا جائے اور یقیناً ایسی شاعری تعمیر ملت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔
     جلال اکبرؔ کے اصلاحی اور انقلابی کلام کو مشاعروں میں بہت پسند کیا جاتا ہے، آپ نے ریاست تلنگانہ کے حیدرآباد، عادل آباد، کریم نگر، پداپلی، ورنگل وغیرہ، ریاست آندھرا پردیش کے چتور ضلع، ریاست اڑیسہ کے کٹک، بھوبھنیشور کے علاوہ مہاراشٹرا اور کرناٹک کے مختلف علاقوں میں منعقدہ عالمی، کل ہند اور ریاستی سطح کے مشاعروں میں بحیثیت شاعر شرکت کر کے اپنے شہر اور اپنی ریاست کی کامیاب نمائندگی کی، اس کے علاوہ مختلف اردو اخبارات اور ادبی رسائل میں بھی آپ کا کلام شائع ہوتا رہتا ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ محترم جلال اکبرؔ صاحب کے شعری سفر کو پوری پوری شان و شوکت کے ساتھ جاری رکھنے میں مدد فرمائے، آمین۔


منتخب کلام

حمد
وہ ہے خوش بخت جسے مل گئی نعمت تیری
ہے بہت خاص بہت خاص عنایت تیری
چاپ چیونٹی کے بھی قدموں کی تو سن لیتا ہے
ہے بہت تیز بہت بہت تیز سماعت تیری

نعت

شہ انام کے در کے فقیر ہو جاؤ
کہ بیٹھے بیٹھے امیر و کبیر ہو جاؤ
درود پڑھ کہ شہ دیں کی آل پر اکبرؔ
بس ایک پل میں ہی روشن ضمیر ہوجاؤ

وہ ثور کا ماحول وہ منظر ہی الگ ہے
وہ سانپ وہ مکڑی وہ کبوتر ہی الگ ہے
ہجرت کی ہے شب اور بلندی پہ ہے قسمت
سوئے ہیں علی جس پہ وہ بستر ہی الگ ہے
آقا کے غلاموں پہ ہے نبیوں کی نگاہیں
آقا کے غلاموں کا مقدر ہی الگ ہے
سب ہوں گے حسابوں میں تو ہم دید میں مصروف
اپنے لیے ہنگامۂ محشر ہی الگ ہے

چاند سے بہتر ہے نقشِ پا مِرے سرکار کا
چومتا ہے عرش بھی تلوا مِرے سرکار کا
اس قدر پُر کیف ہے جب ان کے قدموں کا جمال
کیسا ہوگا سوچیے چہرہ مِرے سرکار کا

غزل

ہر چند لطف انجمن آرائیوں میں تھا
پر وہ مزہ الگ تھا جو تنہائیوں میں تھا
در کھٹکھٹاتے کس کا ہم انصاف کے لیے
منصف ہمارے شہر کا بلوائیوں میں تھا
غم یہ نہیں تماشا بنایا گیا مرا
غم یہ کہ میرا بھائی تماشائیوں میں تھا

خطرات کے حدود سے آگے گزر گئے
رستہ جدھر نہیں تھا کوئی ہم ادھر گئے
دشمن مِری اڑان پہ حيراں تو ہے مگر
کچھ میرے دوستوں کے بھی چہرے اتر گئے
جو کام دشمنوں کے عزائم نہ کر سکے
احباب ہنستے بولتے وہ کام کر گئے

کبھی ہوا کی طرح ہے کبھی ندی کی طرح
تِرے خیال کا موسم ہے شاعری کی طرح
خدا نخواستہ جینا پڑے جو تیرے بغیر
ہے میرے واسطے ہر سانس خود کشی کی طرح
سبھی گھروں میں ہے ماحول دفتروں جیسا
کہ لوگ پیار بھی کرتے ہیں نوکری کی طرح

پتھر کی فصیلوں میں صدا دیں تو کسے دیں
بتلاؤ کہ پیغامِ وفا دیں تو کسے دیں
احباب ہیں آپس میں سبھی الجھے ہوئے سے
سب سوچ رہے ہیں کہ دغا دیں تو کسے دیں
ہر کوئی نظر آتا ہے نفرت کا خرایدار
اکبرؔ غمِ الفت کی دوا دیں تو کسے دیں

سبھی کے دل میں نہیں ہوتا جذبۂ الفت
یہ شئے بنائی ہے رب نے کسی کسی کے لیے
نہ کوئی بھوت نہ کوئی بلا نہ کوئی چڑیل
یہاں تو آدمی کافی ہے آدمی کے لیے
عجیب لوگ ہیں اکبرؔ ہمارے دور کے لوگ
چراغ لے کے بھٹکتے ہیں روشنی کے لیے

آگ اور پانی میں ہو سکتی ہے ہم آہنگی
حق و باطل کبھی ہم راز نہیں ہو سکتے
جن پرندوں کے عزائم پہ تھکن ہو طاری
وہ کبھی قابلِ پرواز نہیں ہو سکتے
ذبح ہو جاتے ہیں چپ چاپ جو پنچھی اکبرؔ
مرغ ہو سکتے ہیں شہباز نہیں ہو سکتے


ــــــــــــــــــ غزل ـــــــــــــــــــ

اب گزرتا نہیں موسم کوئی چھوکر مجھ کو
کر دِیا ہے مرے حالات نے پتھر مجھ کو

صرف اور صرف خلا تجھ کو دِکھائی دے گا
دیکھ منظر سے کسی روز ہٹا کر مجھ کو

پُر سکوں رہتا ہوں اپنا کے توکل کی ادا
"کردِیا فقر کی دولت نے تونگر مجھ کو"

منہ سے جب کوئی غلط بات نِکل جاتی ہے
نوچنے لگتا ہے کوئی مرے اندر مجھ کو

ساتھ چلتا ہے تصور جو تری گلیوں کا
فرشِ مخمل پہ بھی لگ جاتی ہے ٹھوکر مجھ کو

میری ہستی شکن آلود ہوئی جاتی ہے
حوصلہ دیتے ہیں سب کہہ کے قدآور مجھ کو

گھر میں ہوتی نہیں قرآں کی تلاوت جس دِن
اک بیابان سا لگتا ہے مرا گھر مجھ کو

نیک اعمال کا دعویٰ نہیں کرتا میں کبھی
بخشوائیں گے مرے شافعِ محشر مجھ کو

بچ کے طوفان سے لوٹا ہوں میں جب سے اکبر
ہاتھ ملتا نظر آتا ہے سمندر مجھ کو

مضمون نگار: ڈاکٹر رضیؔ شطاری، نظام آباد۔

No comments:

Post a Comment