حافظ سید معظم علی : مدرس، صحافی، مصلح قوم - My city Nizamabad | Info on History Culture & Heritage | Urdu Portal | MyNizamabad.com

2.12.19

حافظ سید معظم علی : مدرس، صحافی، مصلح قوم

حافظ سید معظم علی صاحب مرحوم
مدرس ، صحافی اور مصلح قوم

نظام آباد کی ہمہ جہت شخصیات میں شمار ہونے والے حافظ سید معظم علی صاحب مرحوم نے اپنی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔ وہ بیک وقت حکیم وڈاکٹر،مدرس صحافی اور مصلح قوم تھے۔عوامی و سماجی زندگی میں رہتے ہوئے بھی علمی اشغال اور تزکیہٴ نفس کی طرف توجہ کی،عبادت اور ذکر و فکر کا انہماک و معمول مثالی تھا۔ ان کے دونوں فرزنداں سید عثمان علی شوکت ایڈیٹر ہفتہ روزہ "فکرجمہور" اور سید یٰسین علی افسر ایڈیٹر ہفتہ روزہ "انواردکن" نے اپنے والدمغفور کوان کی چودھویں برسی کے موقع پر بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
شاعرلکھنوئی کے یہ اشعار مرحوم کی شخصیت کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔

کبھی کبھی تو جدائی کی لذتیں دے کر
رفاقتوں میں نیا رنگ بھر گئے ہیں لوگ
غرور تند ہواؤں کا یوں بھی توڑا ہے
چراغ ہاتھ پہ رکھ کر گزر گئے ہیں لوگ

(مجیدعارف)

****

اللہ رب العزت کی ذات گرامی کے قربان جائیے کہ اس نے انسان کو اشرف المخلو قات بنا یا اور منصب خلا فت سے انسان کو آراستہ فر مایا تا کہ وہ ایسی خدمات انجام دے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے منشاء اورتعلیمات اسلامی کے عین مطابق ہو ۔انسان کی زندگی مختصر ہے ۔جس سے اس نکتہ کو سمجھا اس نے فلاح پالی۔اہلیان نظام آباد کے لئے ڈاکٹر حافظ سید معظم علی صاحب مرحوم کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ان کے نانا ہمارے ضلع کی ایک عظیم شخصیت حضرت مولانا سید شاہ بہلولؒ گزرے ہیں جنہوں نے ضلع میں دینی اور ملی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اس کا تذکرہ طویل ہے جو انشاء اللہ کسی موقعہ پر کیا جائے گا آپ کے دادا حضرت الحاج سید پیر محمد صاحبؒ (مدرس سرکار اعلیٰ) ولد حضرت الحاج مولوی سید یوسف علی صاحبؒ(صدر مدرس) ایم اے بی دیڈ کے گھر، 26/جنوری1942ء کو پیداہوئے۔

آپ خاندان سید کے علا وہ اہل سلسلہ تھے ،انہوں نے ایک مرتبہ بتایا کہ ہمارے خاندان کواللہ رب العزت نے دینوی دنیا وی سربلندی عطا کی ہے اور ملک و قوم کی خدمت ہمارا شیوہ ہے۔ آپ کی تعلیم او دیگر عثمان آباد، کے علاوہ حضرت جی رحمتہ اللہ کے مدرسہ (مرکز حضرت نظام الدین میں ہوئی)قاعدہ، ناظرہ حفظ قر آن مجید کے بعد جلالین شریف تک علمیت کی تعلیم حاصل کی ۔اللہ والوں کا قرب، دینی خدمات کے طورپر پانچ ماہ تک حضرت جیؒ کے ہمراہ پیدل تبلیغی سفر کیا۔ جس کی وجہ سےآپ کے دینی مزاج میں مزید پختگی عطا ہوئی۔ دوران تعلیم دہلی میں آپ نے نہ صرف مسلم ملی رہنماؤں مجاہدین آزادی کی صحبت میں وقت گذاربلکہ اہل اللہ سے نسبت بھی حاصل کی۔ آپ کی سوچ و فکرمیں انسانی قومی و ملی خدمات کا جذبہ ہمیشہ موجزن رہتا تھا۔ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے پیشہ طب و حکمت کے کورس کی تکمیل کی۔ درس، تدریس، طب اور حکمت کو اختیار فر مایا تا کہ ان شعبہ جات کے تحت خدمات جاری رکھ سکیں۔ 1970ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول کی سرکاری ملازمت کی دس سالہ سرویس کو خیر باد کہ کر آپ نے نومبر 1971ء کو ہفتہ روزہ اخبار "فکر جمہور"جاری فرمایا ۔اخبارکے ذریعہ سے آپ ہمیشہ ملی مسائل کو پیش کیا کر تے تھے۔ ہند پاک جنگ ہو یا کہ ہند بنگلہ دیش جنگ یا ہندوستان میں ایمر جنسی کا نفاذ یا پھر فیملی پلاننگ تحریک، تلنگانہ تحریک یا ایران عراق جنگ، یا عراق پر امریکہ کا حملہ، شاہ بانو کیس بابری مسجد سانحہ، گجرات کے مسلم نسل کشی ہو آپ انتہائی بے با کا نہ انداز میں صحافت کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔ مجلس اتحاد المسلمین، مجلس بچاؤ تحریک، مسلم لیگ، جمعیتہ العلماء، جمعیتہ المشائخ کی خدمات پر آپ نظر رکھتے اور مختلف مواقعوں پر مذ کورہ بالا جماعتوں کے سر برا ہوں کو مفید مشوروں سے نواز تے تا کہ مسلم موقف میں استحکام آئے۔جناب حافظ معظم علی صاحب نے ریاست آندھرا پردیش میں جمعیتہ علماء ہند کے استحکام کیلئے حضرت اسعد مدنیؒ سے ہمیشہ خط و کتابت فر ما تے تھے ریاستی وضلعی جمعیتہ علماء کے ذمہ دار ہو تے ہوئے آپ تا حیات کل ہند جمعیتہ علماء کے رکن مجلس منتظمہ تھے آپ فرما تے تھے کہ جمعیتہ علماء اور دارالعلوم دیو بند کے طفیل ہی ملک کو انگریزوں سے آزادی ملی ورنہ آزادی کا ملنا دشوار تھا۔ضلع بھر میں آپ کے زیر اہتمام سیرت النبیؐ، یاد حسین،اصلاح معاشرہ، استقبال رمضان المبارک وغیرہ کے عنوانات سے جلسہ، تحریری، تقریری مقابلے، اسلامک کوئز منعقد ہوتے تھے تا کہ نئی نسل میں دینی شعور پیدا کیا جا سکے۔ 1971ء میں R.M.P کا کورس مکمل کر کے سند حاصل کی اور اس کے بعد دہلی میں ا ٓپ نے پیشہ حکمت کی تربیت حاصل کی۔ مختلف امراض بالخصوص بیچیدہ اور کہنہ امراض کا علاج بذریعہ جڑی بوٹیاں اور دیسی ادویات سے کر تے تھے، آپ نے 1975ء مالاپلی مسجد کے پاس ایک ملگی میں دوخانہ کا قیام عمل میں لایا تھاجہاں غریبوں کا مفت علاج کیا جا تا تھا۔خدمات کو مزید وسعت دینے کےلئے ایک ڈاکٹر جو اُسوقت یونانی دواخانہ میں خدمات انجام دیتے تھے اُنہیں ماہانہ مشاہرہ پر مامور کیا۔بہ حیثیت جید حافظ قر آن آپ نے شہر کے مختلف مساجد میں ماہ صیام میں (زائداز 45سال)قر آن کریم سُنا نے کی سعادت حاصل کی ۔علاوہ ازیں مسجد رحمانیہ، مسجد دہاروگلی کے امام و خطیب کی حیثیت سے بھی خدمات ایک عرصہ تک انجام دیں، محلہ دہاروگلی میں دینی صباحی مکتب کا قیام عمل میں لاتے ہوئے سینکڑوں نو نہالوں کو دینی تعلیم اور قر آنی تعلیم دی۔ الحمد للہ آ پ کے شاگردوں میں ڈاکٹر س، انجینئرس، وکلاء، صحافی، علماء، حفاظ کے علاوہ مختلف پیشوں سے وابستہ احباب کی کثیر تعداد شامل ہے جو ملک و بیروں ملک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

1970 تا 1980مکمل ایک دہے تک آپ حضرت سید سعد اللہ حسینیؒ(بڑاپہاڑ)کے آستانہ پر سالانہ عرس شریف کے موقعہ پر جنوبی ہندکے عقیدتمندوں تک سیرت النبیؐ اور فیضان اولیاء اکرام کے عنوان سے معلومات آفریں دینی خطاب فر ما یاکرتے تھے اور زائرین کو دینی اسلامی تعلیمات سے روشناس کر واتے تھے بفضل تعالیٰ آپ کی خوبی تھی کہ آپ کسی بھی پلیٹ فارم سے حق و صداقت کی صدا کو بلند کر نے میں کبھی بھی مصلحت پرستی اور دنیاوی منفعت کو پیش نظر نہیں رکھا بلکہ ایک مرد مجاہد کی طرح بلند ہمتی، عزم و استقلال کے پیکر کی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات پربھروسہ رکھتے تھے۔

آپ کی سادگی منکسر المزاجی، اعلیٰ کردارسے آ پ مختلف مذاہب کے ماننے والوں اور مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ سرکاری عہدیداران، اراکین اسمبلی، اراکین پارلیمان، قائدین، ادیبوں، شعراء اور صحافیوں میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اسلامی اور دنیاوی تعلیمات پر آپکا مطالعہ نہایت وسیع تھا ملک کی مختلف زبانوں پر عبور سے آپ کو ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی طبقوں میں مکمل مقبولیت حاصل تھی۔1990ء کے دہے میں آپ نے گوتم نگر، چندر شیکھر کالونی نظام آباد جیسے پسماندہ اور سلم علاقوں میں ایک تعلیمی ادارہ ہُدیٰ پرئمری اسکول کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اُس علاقہ کے نئی نسل کے تعلیمی مسائل کے حل کیلئے کوششیں کیں۔ جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم کانظم کیا گیا تھا۔ ضلع کے دینی اداروں کی خدمات میں آپ ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے ضلع کے ممتاز علماء حفاظ کرام ہمیشہ آ پ کی رائے مشوروں کو مقدم سمجھتے تھے۔

صحافتی میدان میں آپکی خدمات نہایت وسیع ہیں ۔دہلی اور حیدرآ بادکے بلند پایہ اُردو صحافیوں، سے نہایت قریبی تعلقات تھے۔مختلف صحافتی تنظیموں کے ذمہ داران،پی آئی بی،ارباب اقتدارسے مسلم مسائل پرتحریروں یاداشتیں پیش کرتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لئےر زور دیتے تھے اُردو زبان کے فروغ کیلئے آپ مختلف ادبی انجمنوں کے عہدیداروں کو وقتاً فوقتاً قیمتی مشوروں سے نواز تے تھے قوم و ملت کی بھلائی، ترقی، استحکام، اتحاد کو آپ ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے۔

ایف ایم ایڈیو اسٹیشن نظام آباد کے افتتاح کے موقع پر مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر پی اوپیندرا سے آپ نے زبردست احتجاج کر تے ہوئے اُردو زبان کے نشریات کے آغاز کا مطالبہ کیا اُسوقت سارے پروگرام میں حیرت و استعجاب کی لہر دوڑ گئی اور مرکزی وزیر نے کہا کہ اُردو زبان کی نشریات کے تعلق سے غور کیا جائیگا ۔

1960ء تا 1980 ء آپ نےجامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ اُردو علیگڈہ، ادارہ ادبیات اُردو کے علاوہ مختلف جامعات کے امتحانی اور تعلیمی مراکز کے ذمہ دار کی حیثیت سے گرا نقد ر خدمات انجام دیں ۔1990ء میں ا ٓپ نے بالکنڈہ میں اُردو تنظیم کے جلسہ میں بہ حیثیت مہمان خصوصی خطاب کر تے ہوئے کہا تھا کہ الحمداللہ میں نے اپنے ہاتھوں سے 1500 اُمیدواروں کو مذکورہ بالا مشہور جامعات کے صداقت نامے دلوائے جس میں بعض ایسے بھی امیدوار تھے جو انتہائی مفلوک الحالی کی زندگی گذاررہے تھے بفضل تعالیٰ اُنکی بھی مکمل سرپرستی کی گئی۔آپ یوتھ ویلفر سوسائٹی نظام آباد کے سر پرست اعلیٰ اور شیخ مجاہد علی زاہد مرحوم نوجوان صحافی و قلمکار جنرل سکریٹری تھے دونوں نے طلبہ و طالبات اور نوجوانوں میں بیجا رسومات بالخصوص مخالف جہیز مہم موثر طور پر چلائی گی و نیز اس عنوان کے تحت شہر کے مختلف تعلیمی اداروں (کالجوں اور ہائی ا سکولوں) میں شعور بیداری کے علاوہ تقریری مقابلوں کا انعقاد عمل میں لایا گیا مخالف جہیز مضامین پر مبنی ایک کتاب کی اشاعت عمل میں لاتے ہوئے پورے ضلع میں تقسیم عمل میں لائی گئی۔

جانشین قطب دکن حضرت مولانا شاہ محمد عبدالغفور قریشیؒ بانی مدرسہ اسلامیہ قاسم العلوم اودگیر کے شاگرد خاص ہونے کے ناطے آپ حضرت اعلیٰ سے 1984ء میں التماس کی کہ ضلع نظام آباد میں اکابرین اسلام کی خانقاہی اور روحانی تعلیمات کو عام کرئے اس گذارش کو شرف قبولیت عطاء فر ماتے ہوئے حضرت اعلیٰ نے نظام آباد کا سفر فرمایا اور الحاج علی بن عبداللہ لاری اونر بودہن روڈ،نظام آباد کے رہائش گاہ پر ابتداًء حضرت اعلیٰ کی زیر سرپرستی سلسلہ چشتیہ قادریہ نقشبندیہ سہروردیہ کی تعلیمات اور ذاکرین کے حلقوں کا آغاز فر ما یا گیا الحمد اللہ اسمیں ضلع کے معززین تاجرین اور دینی حمیت کے حامل احباب نے کثیر تعداد میں شر کت کر تے ہوئے تعلیمات اسلامی سے روشناس ہوئے حضرت اعلیٰ سے بعیت فر مائے اور ظاہر و باطن کو درست کر نے لگے ڈاکٹر حافظ سید معظم علی صاحبؒ کی کامیاب تر غیب پر 1984ء تا2005ء تک شہر اور ضلع کے مختلف مقامات کے بیشتر احباب ذکر و سلوک کے حلقوں میں قلبی ریاضت کا آغاز فر ما یا اور فی الوقت یہ سارے احکامات الہیٰ اور حضوؐر کی سنتوں پر اپنی زندگیوں کو گزار تے ہوئے دوسرے احباب کو دعوت دین پہنچا رہے ہیں آپ کو حضرت و علیٰ نے خلافت بھی عطا فر مائی تھی جس کے باوجود آپ انتہائی سادگی سے دینی کام انجام دیتے رہے۔

تحفظ ختم نبوؐت اور رد قادیانیت کیلئے بھی آپ نے 2003ء سے ضلع کے مختلف علماء اکرام اور ذمہ داران دینی مدارس سے ملکر مہم میں گرانقدر خدمات انجام دیں ضلع کے مختلف مقامات اور دور دراز علاقوں کے دورے کئے اور وہاں کے MIXED CULTURE والے بھولے بھالے مسلمانوں سے ملاقات کر تے ہوئے آپ نے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا اورفتنہ قادیانیت سے دور رہنے کی تلقین کر تے رہے، دیہاتوں کے مسلمانوں کے لئے فکر مند رہتے تھے۔

غریب اور مفلوک الحال مسلم خاندانوں سے وابستہ لڑکیوں کی شادیوں میں آپ اپنے احباب خاص کے ہمراہ خدمات انجام دینے میں پیش پیش رہتے تھے۔ غریب مسلم طبقہ کے کمسن طلبہ کو دینی تعلیم سے آراستہ کر وانے کیلئے مختلف دینی مدارس میں راست پہنچ کر داخلہ دلواتے الحمد اللہ سینکڑوں کی تعداد میں آپکے شاگرد علم دین سے آراستہ ہو کر مختلف مقامات پر امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں تعلیم بالغان کیلئے آپ نے یہ اسکیم بنائی تھی کہ مزدور پیشہ اور مختلف کاروبار سے وابستہ مسلم احباب کو کسی طرح ان کے وقت کے حساب سے بنیادی دینی و دنیاوی تعلیم دی جائے لیکن خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے اُس پر عمل آوری نہ ہو سکی۔ آپ کی شخصیت میں کئی محاسن اور خوبیاں پوشیدہ تھیں آپ ہر ایک میں بالخصوص علماء میں انقلابی فکرسازی کے لئے بے چین رہتے تھے، آپ کی پوری زندگی یاد الہٰی، خدمت خلق، شرافت، بردباری، دیانتداری، خوف الہٰی کی اعلیٰ نمونہ تھی۔

30/نومبر 2005ء کومسجد ابوبکر صدیقؓ میں نماز مغرب اور عشاء کی تکمیل کے بعد گھر لوٹنے کے چند گھنٹوں بعد طبعیت ناساز ہو گئی اور 2بجکر 20منٹ پر آپ نے آخری سانس لی اور خالق حقیقی سے جا ملے، جامع مسجد نظام آباد میں قبل از نماز ظہر ایک تعزیتی جلسہ رکھا گیا جسمیں جنوبی ہند کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا الحاج مفتی خلیل الرحمن صاحب صدر جمعیت علماء ہند شاخ مرہٹوارہ نے دوران خطاب آپ کی دینی، ملّی، سماجی، صحافتی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جناب حافظ سید معظم علی اور میں ہم جماعت تھے میں علم دین کی تکمیل کے بعد میں فروغ علم دین میں مشغول ہو گیا اور وہ "علم بالقلم"کے مصداق مشغول ہو گئے۔ اور آخر وقت تک اپنے آپ کو مصروف رکھا، اللہ رب العزت سے دُعا ہیکہ وہ مرحوم کے خدمات کو شرف قبولیت عطا فر ماتے ہوئے اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فر مائے اور درجات کو بلند فر مائے آمین ثم آمین۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہو تا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا

پسماند گان میں 7فرزندان 2دختران شامل ہیں، بڑے فرزند سید عثمان علی ایڈیٹر" فکر جمہور" ہفتہ وار نظام آباد، دوسرے فرزند سید یعقوب علی (کلاٹیک انٹر نیشنل کمپنی دوبئی) تیسرے فرزند سید یاسین علی ایڈیٹر ہفتہ وار" انوارِ دکن "نظام آباد، چوتھے فرزند مولانا حافظ سید شاہد علی مدرس و امام و خطیب مسجدمیر با شاہ،مغل پورہ، حیدر آباد، پانچویں فر زند حافظ سید مکرم علی این آر آئی، چھٹویں فرزند سید یوسف علی انجینر کلائمیٹ کنٹرول انٹر نیشنل کمپنی دبئی، ساتویں فرزند سید مصطفی علی (ایم بی اے) انظام آباد۔ شامل ہیں۔

٭***

سید عثمان علی شوکت، ایڈیٹر ہفتہ روزہ "فکرجمہور"
سید یٰسین علی افسر، ایڈیٹر ہفتہ روزہ "انواردکن "

No comments:

Post a Comment